Showing posts with label News. Show all posts
Showing posts with label News. Show all posts

Thursday, August 29, 2013

THIS CLIP WAS NOT AIRED ON DUNYA NEWS – DON’T WATCH WITH YOUR FAMILY (18+)


یہ کلپ دنیا نیوز نے نشر نھیں کی کیونکہ اس میں بچے نے کچھ ایسی باتیں کیں جوفیملی کے ساتھ نھیں دیکھی جاسکتی لھٰذا آپ بھی یہ وڈیو فیملی کےساتھ دیکھنے سے اجتناب کریں ۔۔ بچےھرگز نہ دیکھیں

Tuesday, August 6, 2013

لاہور میں معذور بچی سے جنسی زیادتی


Saturday, August 3, 2013

UNDERCOVER (PG – RAMAZAN KE MAHINAY MAIN BHI JISM FAROOSHI KA DHANDA UROOJ PAR) – 2ND AUGUST 2013

رمضان المبارک کے مہینے میں بھی جسم فروشی کا دھندہ عروج پر

کیا یہ لوگ مسلمان کہلانے کے لائق ہیں ؟



جس سے بھی بات کریں کوئی نہ کوئی مجبوری بیان کرتا ہے ، مجبوری خوشی ، روپیہ پیسہ یا پھر کچھ اور ؟



کوئی شرمندگی کسی کے چہرے پر نہیں ... یا الہی رحم فرما


15 سال کی کم عمر بچی بھی جسم فروشی کے دھندے میں ملوث
انڈر کور کی ٹیم کا سب سے مشکل پروگرام ، صبح سے لیکر شام تک جسم فروشی کی کئی جگہیں بے نقاب

Monday, July 29, 2013

IMRAN KHAN DONATED HIS 10 MILLION PLOT TO SHAUKAT KHANUM HOSPITAL

عمران خان نے ایک کروڑ کا پلاٹ شوکت خانم کو عطیہ کر دیا.


عمران خان نے لاہور میں فنڈ ریزنگ مہم کے دوران اپنا ایک کروڑ کا پلاٹ ہسپتال کو عطیہ کر دیا. انہوں نے کہا کہ شوکت خنم کینسر کے مریضوں کو علاج کے لئے بہترین طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے، جب میں لفٹر سے گرا تو مجھے بھی علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی گئیں. پاکستانی قوم دنیا میں سب سے زیادہ عطیات دیتی ہے اور 1994 سے لے کر 
اب تک شوکت خانم کے لئے 13 ارب روپے کی زکوٰۃ اکٹھی ہوئی.


Friday, July 26, 2013

Mathira discussing her Condom Add with Nida Yasir and Mani in Ramzan (Bold Language)

Mathira discussing her Condom Add with Nida Yasir and Mani in Ramzan (Bold Language)

Thursday, July 25, 2013

PUNJAB POLICE NE BEGAIRATI KI TAMAM HADHEN TORHTE HUE BAAP BETAY KE RISHTAY KE TAKADUS KO PAMAAL KARDIA

Punjab Police ne Begairati ki tamam hadhen torhte hue baap betay ke rishtay ke takadus ko pamaal kardia

Friday, July 19, 2013

زیادتی کی ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنیوالے 4 ملزمان گرفتار


لودھراں:پاکستانی صوبہ پنجاب کے ضلع لودھراں میں نویں جماعت کی طالبہ کو جنسی زیادتی کی ویڈ یو بنا کر بلیک میل کرنے والے چار ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
نمائندہ دی نیوز ٹرائب کے مطابق لودھراں کے علاقے دنیا پورمیں ملزمان  نے پہلے طالبہ کو ورغلایا کر ویڈیو بنانی اور پھر 6 ماہ تک بلیک میل کر کے جنسی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے۔
نمائندے نے بتایا کہ ملزمان ویڈیو کے ذریعے طالبہ کے ساتھ ساتھ اس کے والد کو بلیک میل کرکے 3 لاکھ روپے طلب کیے، مطلوبہ رقم نہ ملنے پر ملزمان نے زیادتی کی ویڈیو انٹرنیٹ پر ڈال دی۔
بدقسمت طالبہ کے والد کی درخواست پر پولیس نے واقعے میں ملوث مرکزی ملزمان انضمام، احتشام، جہانگیر اور شیراز کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے لڑکی کی قابل اعتراض ویڈیو برآمد کرلی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایک ملزم بلال فرار ہے جس کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں جب کہ زیر حراست ملزمان کے خلاف دفعہ 376 اور 292 کے تحت مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

Wednesday, July 17, 2013

PIA medical officer raped by her fellow members

PIA medical officer was raped yesterday in ambulance sources said,
PIA medical officer said that my fellow member who is deputy chief medical officer of PIA with Ambulance driver and a lab attendant raped me in Ambulance and record my video and gave threat to me about the publishing of the video on the social media if I told d it to any one.
He told me I was in ambulance I was to go to PIA hospital but during traveling all these 3 raped me on after the other.
Medical officer pleaded that I want justice from CM Punjab and Chief minister should punish these vultures hardly who have no manners and are dogs by nature.

Tuesday, July 9, 2013

الطاف حسین کی مبشر لقمان کو قتل کی دھمکیاں

الطاف حسین کی مبشر لقمان کو قتل کی دھمکیاں



میں ایم کیو ایم کے خلاف لندن جا رہا ہوں کیس کرنے الطاف حسین کے خلاف بھی۔ ایم کیو ایم کس طرح پاکستان کے خلاف کام کر رہی ہے مبشر لقمان کی زبانی سنیں۔ مبشر لقمان نے ایم کیو ایم کو ننگا کر دیا۔ ویڈیو دیکھیں


Friday, July 5, 2013

خواتین کے ہاتھوں نوعمر لڑکوں کا جنسی استحصال

خواتین کے ہاتھوں نوعمر لڑکوں کا جنسی استحصال

امریکی محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ ملک کے نابالغوں کے لیے مختص اصلاحی مراکز میں بھی جنسی استحصال کے واقعات جاری ہیں اور اس جرم میں وہاں کام کرنے والی خواتین شامل ہیں۔
ان مراکز میں ہونے والے جنسی استحصال کے نوے فیصد واقعات میں پایا گیا کہ خواتین ملازمین نے اپنی نگرانی میں رہنے والے نوعمر لڑکوں یعنی اٹھارہ سال سے کم عمر کے لڑکوں کو نشانہ بنایا اور ان کے ساتھ جنسی فعل کیا ہے۔

بی بی سی کے واشنگٹن میں موجود نمائندے برجیش اپادھیائے کے مطابق محکمۂ انصاف کی طرف سے جاری اس رپورٹ نے اس شعبے میں کام کرنے والوں کے درمیان ایک بحث چھیڑ دی ہے۔
کیلیفورنیا میں قائم غیرسرکاری تنظیم جسٹ ڈیٹنشن انٹرنیشنل کی سربراہ لوویسا سٹینوو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نابالغوں کے لیے انصاف کے نظام میں یہ پہلو نظر انداز ہوتا رہا ہے اور اصلاحی مراکز میں کام کرنے والے افسران بھی اسے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’بعض لوگ یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ یہ نابالغ نوجوان ہی خواتین ملازمین کو بہکا دیتے ہیں اور غلطی ان نوعمروں کی ہی ہے۔ یہ درست نہیں۔‘

سٹینوو کا کہنا ہے کہ ان نوعمروں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کا جنسی فعل ایک جرم ہے اور آگے چل کر ان پر اس کا بہت برا اثر پڑے گا کیونکہ اس طرح کے تعلقات کو باہمی رضامندی سے ہوئے جنسی فعل کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ یہ سمجھانا اصلاحی گھروں کے ملازمین کی ذمہ داری ہے۔
وزارتِ داخلہ کو اس طرح کے استحصال کی معلومات سب سے پہلے 2010 میں ملیں جب انہوں نے عام اصلاحی مراکز میں رہنے والے 9000 نوعمروں کا سروے کیا۔
سروے میں شریک لڑکوں میں سے 10 فیصد سے زیادہ نے کہا کہ وہاں کے ملازمین نے ان کا جنسی استحصال کیا ہے اور اُن میں سے 92 فیصد خواتین ملازم تھیں۔
تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔
ملک کے 326 بچوں کے اصلاحی گھروں میں ہوئے سروے کے مطابق اب بھی 90 فیصد کیس ایسے ہیں جہاں خواتین ملازمین کے نوعمروں کے ساتھ جنسی تعلقات برقرار ہیں۔
مرد ملازمین کے ہاتھوں بھی ان نابالغوں کا استحصال ہوا ہے اور اس کا شکار بنے دو تہائی نوجوانوں کا کہنا تھا کہ انہیں جنسی تعلقات کے بدلے میں خاص سہولیات دی گئیں اور تحفے بھی ملے۔
21 فیصد نوجوانوں کا کہنا تھا کہ انہیں جنسی عمل کے بدلے شراب اور نشہ آور ادویات دی گئیں۔
سٹینوو کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو مزید سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے کیونکہ سماج میں خواتین کے ہاتھوں مردوں کے جنسی استحصال کو عصمت دری کی طرح نہیں دیکھا جاتا۔

ریاست اوہایو کے اصلاحی پروگرام کے سابق ڈائریکٹر ریگي ولكنسن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں رضامندی سے جنسی عمل ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ دونوں فریقوں کے درمیان طاقت کے توازن میں آسمان زمین کا فرق ہے۔
اس رپورٹ نے سوشل میڈیا پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔
ایک فریق کا کہنا ہے کہ یہی جرم اگر مردوں نے نابالغ لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا تو انہیں 25 سال کی سزا ہوتی۔ اگر خواتین ملازمین پر یہ الزام ثابت بھی ہوتا ہے تو انہیں دو تین سال سے زیادہ کی سزا نہیں ہوگی۔
وہیں ایک طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ نابالغ بچے دنیا کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور جسے استحصال کہا جا رہا ہے وہ دراصل باہمی رضامندی سے بنائے گئے جسمانی تعلقات ہیں۔
امریکی بالغ جیلوں میں عصمت دری ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن وہاں یہ واقعات قیدیوں کے درمیان ہوتے ہیں اور ان میں حکام اور ملازمین کا براہ راست تعلق نہیں دیکھا گیا ہے۔
نابالغ اصلاحی مراکز یا حراستی مراکز میں بھی ایسے واقعات پیش آتے ہیں لیکن وہاں ملازمین کے کردار پر انگلی اٹھ رہی ہے اور غیرسرکاری تنظیمیں اس کی جڑ تک جانے کی کوشش میں ہیں۔

Thursday, July 4, 2013

شاہ رخ کا اپنی اہلیہ کی بھابھی سے تیسرا بچہ

شاہ رخ کا اپنی اہلیہ کی بھابھی سے تیسرا بچہ

ممبئی:  بھاری اداکار شاہ رخ خان کی اہلیہ گوری نے تیسرے بچے کے لیے سرو گیٹ یعنی”کرائے کی ماں“ کی خدمات اپنی بھابھی سے حاصل کیں اور پیدائش کے بعد بچہ لے کر کاغذات میں خود ماں بن گئی۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹس کےمطابق شاہ رخ خان کا تولیدی مادہ ان کی اہلیہ یعنی گوری کی بھابھی کے بطن میں ڈالا گیا تھا۔
گوری خان کی بھابھی شاہ رخ کے بچے کو 27 جون کو جنم دینے کے بعد لندن روانہ ہوگئیں۔
بچے کی پیدائش کے سرٹیفکیٹ پر شاہ رخ خان اوران کی بیوی گوری خان کانام لکھوایا گیا ہے۔
دوسری جانب بھارتی محکمہ صحت بھی اس بات کی تحقیقات کررہا کہ آیا کنگ خان نے بچے کی پیدائش سے قبل اس کی جنس کا پتا کرایا تھا یا نہیں؟
کیوں کہ بھارت میں بچیوں کے جینز کامعلوم ہونے پران کی پیدائش سے قبل ہی قتل کے بڑھتے واقعات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے بچوں کی جنس پتہ کرانے کو جرم قراردیاہے۔


چوک میں ایل ای ڈی پر عریاں فلم نشر



چوک میں ایل ای ڈی پر عریاں فلم نشر---- چین کے صوبہ جیلین میں حادثاتی طور پر ایک عریاں ممنوعہ فلم کو چوک میں لگی ہوئی بڑی ایل ای ڈی سکرین پر نشر کیا گیا ہے۔ چینی میڈیا کے مطابق ژین جن مائی فلم کو جس کا انگریزی میں نام دا فاربیڈن لیجنڈ: سیکس اینڈ چوپ سٹیکس ہے عوامی چوک میں لگی ایل ای ڈی پر دس منٹ تک نشر ہوتی رہی جسے دیکھ کر لوگ حیران ہوئے۔

ایک ٹیکنیشن کو جو اپنے کمپیوٹر پر یہ فلم دیکھ رہا تھا اندازہ نہیں ہوا کہ ان کا کمپیوٹر چوک پر لگی ایل ای ڈی کے ساتھ کنکٹ یا تار کے ذریعے جڑا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ٹیکنیشن کو در حقیقت اس ایل ای ڈی کو مرمت کرنا تھا۔ ایل ای ڈی کی مالک ایڈورٹائزنگ کمپنی نے ٹیکنیشن کو جنھیں یان ماؤ کے نام سے پہچانا گیا ہے اس فلم کے برائے راست نشر ہونے کے بارے میں بتایا۔

چینی میڈیا کے مطابق انھوں نے ایل ای ڈی اور کمپیوٹر کے درمیان لگی تار کو ہٹایا اور فلم کی ڈسک کو کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔

تاہم اس واقعے کے متعلق خبر تیزی سے پھیل گئی اور فلم کے حادثاتی طور پر صوبہ جیلین کے ریلوے سٹیشن کے قریب عوامی چوک پر نشر ہونے کی تصویریں انٹرنیٹ پر ہر طرف پھیل گئیں۔ کہا جا رہا ہے یہ واقعہ گذشتہ ہفتے ہوا ہے اور پولیس اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ابتدائی طور پر چینی مائکرو بلاگرز نے اس واقعے پر خوشی کا اظہار کیا۔ ایک بلاگر نے کہا کہ یہ ’ہانگ کانگ میں بنی اے کلاس فلم ہے۔‘ ایک دوسرے بلاگر نے لکھا کہ’یہ ہمارے سرکاری افسروں کے سیکس کی ٹیپ تو نشر نہیں کر رہے تو اس کے بارے میں اتنا شور کیوں۔‘

ژین جن مائی فلم سترویں صدی میں لکھی گئی چینی ناول پر جسے پلم ان دا گولڈن ویس کے نام سے جانا جاتا ہے بنائی گئی ہے۔

اس فلم کاجو ورژن چوک میں نشر کیا گیا تھا وہ ہانگ کانگ میں دوبارہ بنایا گیا تھا جس کا انگریزی نام دا فاربیڈن لیجنڈ: سیکس اینڈ چوپ سٹیکس ہے۔

چین میں فلموں کے حوالے سے سخت قوانین ہیں اور بعض سیاسی طور پر حساس اور عریاں فلموں پر پابندی ہے۔

Friday, February 22, 2013

World Tallest Building: Fraud By Malik Riaz

World Tallest Building: Fraud By Malik Riaz

Wednesday, January 2, 2013

New Delhi: Another rape case was reported in New Delhi

New Delhi: Another rape case was reported in New Delhi, capital of India, just hours before Nirbhaya’s ashes were immersed in the Ganga. According to Indian media reports, a 17-year-old girl studying in class XI of a prominent south Delhi school was allegedly sedated and raped by two men at a New Year’s party in the upscale Safdarjung Enclave area of south Delhi. The girl had said in her statement that one of the accused had befriended her on a social networking site a few months ago. The accused had expressed his wish to meet the victim several times and use to chat with her online. On New Year’s Eve, the accused convinced the girl to meet at a south Delhi market. Later, the girl was given a drink which was laced with a heavy dose of sedatives after which she began to feel dizzy. The girl alleged that the accused then took turns to rape her inside the flat and then left her alone. They even threatened her with dire consequences if she disclosed the incident to anyone. However, the girl managed to flee from their clutches after the accused left her alone and went out. The two accused, who work in leading IT companies, were arrested late at night after the girl approached Safdarjung Enclave police station. They live in Sarojini Nagar with their families. Both are in their late 20s. While one is a computer engineer with an IT company, the other works in the HR department of a blue-chip tech and consulting multinational, an officer said. During interrogation, the accused accepted their involvement before the police and confessed to having lured the girl on pretext of meeting on New Years Eve, police said.

Monday, December 24, 2012

Annie Khalid Crying

عینی نے کہا کہ ان کے شوہر تشدد کے دوران ان کے کان پکڑوا کر انہیں مرغا بناتے رہے

Mass protests held in India over sexual violence

Published on 23 Dec 2012 Mass protests have been held across India in response to the gang-rape of a medical student in New Delhi, the country's capital. Social activists have called for a complete overhaul of the Indian legal system in terms of how it deals with crimes of sexual violence. Al Jazeera spoke to Kiran Bedi, a former police officer and social activist, about the issue.

Saturday, December 8, 2012

لندن میں ایم کیو ایم کے دفاقر پر لندن میٹرو پولیٹن پولیس کے چھاپے



بی بی سی:پاکستان کی حکومت نے کہا ہے کہ اسے یقین ہے کہ لندن میں عمران فاروق کے قتل کے حوالے سے جاری تحقیقات ایم کیو ایم کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے میں مدد کرے گی۔لندن میں ایم کیو ایم کے دفاقر پر لندن میٹرو پولیٹن پولیس کے چھاپے پر اپنے رد عمل میں پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم حکومت کی اتحادی اور ملک کی ایک سیکولر جماعت ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ عمران فار
وق کی ہلاکت کے سلسلے میں لندن میں میٹروپولیٹن پولیس کے چھاپے کے حوالےسے نتائج اخد کرنا قبل از وقت اور غلط ہوگا۔لندن میں میٹروپولیٹن پولیس نے جمعے کو ایم کیو ایم کے سابق رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں ایجویئر کے علاقے میں واقع ایم کیو ایم کے دفتر پر چھاپہ مارنے اور تلاشی لینے کی تصدیق کی ہے۔میٹروپولیٹن (میٹ) پولیس کے پریس آفس نے جمعہ کی شب بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بزنس ایڈریس پر تلاشی کا کام دو دن سے جاری تھا۔میٹ پولیس کے ایک اہلکار جوناتھن نے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ چھاپہ جمعرات کو مارا گیا تھا جس کے بعد مفصل تلاشی کا کام شروع ہوا جو جمعہ کی شام کو مکمل کر لیا گیا۔دوسری جانب پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ لندن پولیس کی جانب سے بزنس آفس پر چھاپے کے بارے میں حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہو گا۔دفترِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ تحقیقات کے بعد ایم کیو ایم کے بارے میں شکوک و شبہات دور ہو جائیں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم نہ صرف حکومت کی اتحادی جماعت ہے بلکہ ملک میں سیکولر فورس کی نمائندگی کرتی ہے۔میٹ آفس کے اہلکار نے ایم کیو ایم کے دفتر سے قبضے میں لیے گئے شواہد کی تفصیل نہیں بتائی۔"لندن پولیس کی جانب سے بزنس آفس پر چھاپے کے بارے میں حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہو گا۔ پاکستان کو امید 
ہے کہ تحقیقات کے بعد ایم کیو ایم کے بارے میں شکوک و شبہات دور ہو جائیں گے۔"پاکستان دفترِ خارجہ

پولیس کے مطابق ڈاکٹر عمران فاروق قتل کے سلسلے میں تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی کسی شخص کو تفتیش کے لیے روکا گیا ہے۔لندن میں ایم کیو ایم کے ترجمان مصطفٰی عزیز آبادی سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بارے میں مکمل لاعلمی کا اظہار کیا۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا لندن میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بزنس ایڈریس پر پولیس نے چھاپہ مارا ہے انہوں نے کہا کہ ’ایسی کوئی بات نہیں۔‘مصطفٰی عزیز آبادی نے کہا کہ کل سے اخبار والے یہ خبر اڑاتے پھر رہے ہیں جبکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔گزشتہ ستمبر میٹروپولیٹن پولیس سروس کی انسدادِ دہشت گردی کی ٹیم نے کہا تھا کہ ڈاکٹر فاروق قتل سے چند ماہ پہلے اپنا ایک آزاد سیاسی ’پروفائل‘بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔پولیس کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے ڈاکٹر فاروق اپنا سیاسی کیریئر از سرِ نو شروع کرنے کے متعلق سوچ رہے ہوں۔ اس وجہ سے پولیس ہر اس شخص سے بات کرنا چاہتی ہے جو ڈاکٹر فاروق سے سیاسی حوالے سے رابطے میں تھا۔

"کل سے اخبار والے یہ خبر اڑاتے پھر رہے ہیں جبکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے"لندن میں ایم کیو ایم کے ترجمان مصطفٰی عزیز آبادی-پولیس کے علم میں ہے کہ ڈاکٹر فاروق نے جولائی دو ہزار دس میں ایک نیا فیس بک پروفائل بنایا تھا اور سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ پر بہت سے نئے روابط قائم کیے تھے۔ڈاکٹر عمران فاروق کی ہلاکت کی دوسری برسی کے موقع پر پولیس نے ایک مرتبہ پھر لوگوں سے اپیل کی کہ اگر ان کے پاس کوئی معلومات ہیں تو وہ سامنے لائیں۔پچاس سالہ ڈاکٹر عمران فاروق کو جو سنہ انیس سو ننانوے میں لندن آئے تھے، سولہ ستمبر دو ہزار دس کو ایجویئر کے علاقے میں واقع گرین لین میں چاقو مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اکتوبر میں پولیس کو حملے میں استعمال ہونے والی چھری اور اینٹ بھی ملی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کا قتل ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے اور لگتا ہے کہ اس کے لیے دوسرے افراد کی مدد بھی حاصل کی گئی تھی جنہوں نے ہو سکتا ہے جان بوجھ کر یا انجانے میں قتل میں معاونت کی ہو۔

Thursday, November 15, 2012

Gaza being bombed

Gaza being bombed! These photos were taken yesterday and today. Raise your voices and say stop the massacre. Because Israel preparing to expand Gaza operation.

You can be a Muslim, Christian, Jewish, Atheist or Buddhist but you're still human. You must say "Stop Israel!"





















ری پیڈ سم لینے کا طریقہ کار پوسٹ پید سم جیسا کر دیا گیا

پری پیڈ سم لینے کا طریقہ کار پوسٹ پید سم جیسا کر دیا گیا ھے یکم دسمبر سے یہ نظام لاگو ھو گا جس کو سم نہیں چایئے اسے موبائل کمپنی کے آفس جانا ھو گا اور بچلی کا بل اور اپنا شناختی کارڈ درخواست کے ساتھ لگانا ھوگا پھر فون کمپنی کا نمائیندہ درخواست گزار کے گھر ، دوکان یا دفتر کا دورہ کرے گا اور تفتیش اور چھان بین کے بعد اسکی درخواست قبول کی جاے گی۔ 

یکم دسمبر سے دوکانوں پر سم فروخت ھونا بند ھو جاے گی ۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت موبائل شاپس پر کروڑوں سمیں موجود ہیں اور کمپنوں اپنا خصارہ سارا صارف پر ڈال دینگی سم لینے کا طریقہ کار نہ صرف پیچیدہ کر دیا گیا ھے بلکہ اسے مہنگا بھی کیا جاے گا، موبائل کمبنیاں اپنے کروڑوں روپوں کے نقصان کا ازالہ بھی صارف پر بوچھ ڈال کر کریں گی۔

 کمپنی کے نمائندہ کے سروے کے بعد نادرہ اسکی تصدیق کرے گی پھر سم جاری ھوگی۔ اس نظام سے کرپشن کو مزید فروغ ملے گا کمپنیوں کے نمائیندے سروےکے لیے پیسے لینگے چاے پانی الگ اور پھر نادرہ کے آفس میں جا کر الگ جا کر زلیل ھونا پڑے گا۔ اسکے ساتھ ساتھ نادرہ میں بھی ایجنٹ نمودار ھونگے جو پیسے لے ک
ر درخواست گزار کی سم کی درخواست کو منظور کروا کر ھاتھوں میں لا کر دینگے پیسہ کمائیں گے۔ سم لینے کے طریقہ کار کو شفاف بنانے کے بجاے اسے مزید پیچیدہ کر دیا گیا ھے ابھی دھشت گرد نئی سم لینے کے بجاے راہ گیر سے موبائل چھیننے کے بعد نہ صرف موبائل ہتیا لینگے بلکہ اسکی رجسٹرڈ سم کو دھشت گردی میں استعمال کریں گے۔ پئ ٹی آے کو سم بلاک کرنے اور گمشدہ سم کو بلاک کرنے کے لیے بھی ایک ایمرجنسی نمبر دینا چایئے تا کہ موبائل کھو جانے کی صورت میں وہ متعلقہ کمپنی کو آگاہ کر سکے کہ اسکا موبائل چھین لیا گیا ھے یا اسکی سم گم ھو گئ ھے۔ 



دھشت گردی کو ختم کرنے میں میں نہیں سمجھتا کہ اس طریقہ کار سے کمی ھوگی بلکہ اسے نہ صرف کرپشن پڑھے گی بلکہ کرائم ریٹ بھی بڑھ جاے گا کیوں کہ دھشت گرد نئی سم لینے کے بجاۓ موبائل چھین کر سم کو استعمال کرنے کی کوشش کریں گے

Tuesday, November 13, 2012

حکمران ملک میں نفرت، قتل وغارت،اندھیر نگری چوپٹ راج چھوڑ کر جارہے ہیں،نواز شریف

لاہور: مسلم لیگ(ن)کے صدرنوازشریف نے کہا ہے کہ حکمران ملک میں نفرت، قتل و غارت اور اندھیر نگری چوپٹ راج چھوڑ کر جارہے ہیں اور آنے والی حکومت کے لئے پاکستان کانٹوں کا میدان ہوگا۔ ہاکی اسٹیڈیم لاہور میں تقریب سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ملک کے کونے کونے میں لاشیں گررہی ہیں۔ پاکستان میں پہلے دہشت گردی کبھی نہیں تھی۔

 ہمارے دور اقتدار میں تمام صوبے پر امن تھے۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ موجودہ حکمران آنے والی حکومت کے لئے قتل و غارت، بدحالی،غربت، مہنگائی،لوڈ شیڈنگ سمیت لاتعداد مسائل چھوڑ کر جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنہوں نے عدالتیں، اسمبلی اور آئین و قانون توڑا انہیں گارڈ آف آنرپیش کیا گیا۔ نواز شریف نے کہا کہ نوجوانوں کو ورغلانے کے لئے میدان میں بہت سے لوگ اترے ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ ان نوجوانوں کو ورغلایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت تعلیم پر بہت توجہ دے رہی ہے اوراس کے لئے وہ طلبہ میں مفت لیپ ٹاپ تقسیم کررہی ہے یہ لیپ ٹاپ کسی سیاسی مقاصد کے لئے نہیں بلکہ طلبہ کے روشن مستقبل کے لئے تقسیم کئے جارہے ہیں۔

Featured Links

 
Design by Free WordPress Themes | Bloggerized by Lasantha - Premium Blogger Themes | Affiliate Network Reviews